EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

بھولی نہیں اجڑے ہوئے گلشن کی بہاریں
ہاں یاد ہیں وہ دن کہ ہمارا بھی خدا تھا

حمید جالندھری




ہوئی مدت کہ ان کو خواب میں بھی اب نہیں دیکھا
میں جن گلیوں میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلا تھا

حمید جالندھری




کس شان سے گئے ہیں شہیدان کوئے یار
قاتل بھی ہاتھ اٹھا کے شریک دعا ہوئے

حمید جالندھری




پھر گئی اک اور ہی دنیا نظر کے سامنے
بیٹھے بیٹھے کیا بتاؤں کیا مجھے یاد آ گیا

حمید جالندھری




سینے میں راز عشق چھپایا نہ جائے گا
یہ آگ وہ ہے جس کو دبایا نہ جائے گا

حمید جالندھری




ان کی جفاؤں پر بھی وفا کا ہوا گماں
اپنی وفاؤں کو بھی فراموش کر دیا

حمید جالندھری




آج انساں نے بھلا ڈالے ہیں یزداں کے کرم
ہم نے تو ظلم بھی احسان ترے جانے ہیں

حمید جاذب