EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

بھلا تو اور گھر آئے مرے کیوں کر یقیں کر لوں
تخیل کیوں نہ ہو میرا تری آواز پا کیوں ہو

حکیم محمد اجمل خاں شیدا




چرچا ہمارا عشق نے کیوں جا بہ جا کیا
دل اس کو دے دیا تو بھلا کیا برا کیا

حکیم محمد اجمل خاں شیدا




درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا ہو جائے گی
موت آئے گی تو اے ہمدم شفا ہو جائے گی

حکیم محمد اجمل خاں شیدا




دنیا بس اس سے اور زیادہ نہیں ہے کچھ
کچھ روز ہیں گزارنے اور کچھ گزر گئے

حکیم محمد اجمل خاں شیدا




مے نہ ہو بو ہی سہی کچھ تو ہو رندوں کے لئے
اسی حیلہ سے بجھے گی ہوس جام شراب

حکیم محمد اجمل خاں شیدا




رخسار پر ہے رنگ حیا کا فروغ آج
بوسے کا نام میں نے لیا وہ نکھر گئے

حکیم محمد اجمل خاں شیدا




تعصب بر طرف مسجد ہو یا ہو کوئے بت خانہ
رہ دل دار پر جاتا قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

حکیم محمد اجمل خاں شیدا