وہ سر ہی کیا کہ جس میں تمہارا نہ ہو خیال
وہ دل ہی کیا کہ جس میں تمہارا گزر نہ ہو
حکیم محمد اجمل خاں شیدا
آگے جو قدم رکھا پیچھے کا نہ غم رکھا
جس راہ سے ہم گزرے دیوار اٹھا آئے
حلیم قریشی
اب تجھے کیسے بتائیں کہ تری یادوں میں
کچھ اضافہ ہی کیا ہم نے خیانت نہیں کی
حلیم قریشی
کوئی الزام کوئی طنز کوئی رسوائی
دن بہت ہو گئے یاروں نے عنایت نہیں کی
حلیم قریشی
بدلے ہوئے سے لگتے ہیں اب موسموں کے رنگ
پڑتا ہے آسمان کا سایا زمین پر
ہمدم کاشمیری
شجر تر نہ یہاں برگ شناسا کوئی
اس قرینے سے سجایا ہے یہ منظر کس نے
حمید الماس
آنے لگے ہیں وہ بھی عیادت کے واسطے
اے چارہ گر مریض کو اچھا کیا نہ جائے
حمید جالندھری

