EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وہ سر ہی کیا کہ جس میں تمہارا نہ ہو خیال
وہ دل ہی کیا کہ جس میں تمہارا گزر نہ ہو

حکیم محمد اجمل خاں شیدا




آگے جو قدم رکھا پیچھے کا نہ غم رکھا
جس راہ سے ہم گزرے دیوار اٹھا آئے

حلیم قریشی




اب تجھے کیسے بتائیں کہ تری یادوں میں
کچھ اضافہ ہی کیا ہم نے خیانت نہیں کی

حلیم قریشی




کوئی الزام کوئی طنز کوئی رسوائی
دن بہت ہو گئے یاروں نے عنایت نہیں کی

حلیم قریشی




بدلے ہوئے سے لگتے ہیں اب موسموں کے رنگ
پڑتا ہے آسمان کا سایا زمین پر

ہمدم کاشمیری




شجر تر نہ یہاں برگ شناسا کوئی
اس قرینے سے سجایا ہے یہ منظر کس نے

حمید الماس




آنے لگے ہیں وہ بھی عیادت کے واسطے
اے چارہ گر مریض کو اچھا کیا نہ جائے

حمید جالندھری