EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ جفاؤں کی سزا ہے کہ تماشائی ہے تو
یہ وفاؤں کی سزا ہے کہ پئے دار ہوں میں

حامد مختار حامد




بے وجہ بھی دیکھا ہے پریشاں تمہیں حامدؔ
دیوانے بھی لگتے نہیں عاشق بھی نہیں ہو

حامد سلیم




کتنے غم ہیں جو سر شام سلگ اٹھتے ہیں
چارہ گر تو نے یہ کس دکھ کی دوا بھیجی ہے

حامد سروش




میں نے بھیجی تھی گلابوں کی بشارت اس کو
تحفۃً اس نے بھی خوشبوئے وفا بھیجی ہے

حامد سروش




تمہارا نقش ان آنکھوں سے دھلتا بھی تو کیسے
کہ دریا میں وہ پہلی سی روانی بھی کہاں تھی

حامد ظہور




فضا یوں ہی تو نہیں ملگجی ہوئی جاتی
کوئی تو خاک نشیں ہوش کھو رہا ہوگا

حمیدہ شاہین




کون بدن سے آگے دیکھے عورت کو
سب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں

حمیدہ شاہین