EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وہی دیکھوں جسے دیکھا نہ جائے
یہ منظر اور کتنی بار دیکھوں

حمید کوثر




وہ ایک شخص کہ گمنام تھا خدائی میں
تمہارے نام کے صدقے میں نامور ٹھہرا

حمید کوثر




آسودگی آموز ہو جب آبلہ پائی
ہو جاتی ہے منزل کی لگن دل میں تپاں اور

حمید نسیم




دیکھتے دیکھتے تیرا چہرہ اور اک چہرہ بن جاتا ہے
اک مانوس ملول سا چہرہ کب دیکھا تھا بھول گیا ہوں

حمید نسیم




کیا خبر میرا سفر ہے اور کتنی دور کا
کاغذی اک ناؤ ہوں اور تیز رو پانی میں ہوں

حمید نسیم




نہ یاد کی چبھن کوئی نہ کوئی لو ملال کی
میں جانے کتنی دور یونہی خود سے بے خبر گیا

حمید نسیم




تم اپنے خواب بچا کر رکھو کہ کل دنیا
تمہاری آنکھ میں جھانکے تو زندگی دیکھے

حامد اقبال صدیقی