وہی دیکھوں جسے دیکھا نہ جائے
یہ منظر اور کتنی بار دیکھوں
حمید کوثر
وہ ایک شخص کہ گمنام تھا خدائی میں
تمہارے نام کے صدقے میں نامور ٹھہرا
حمید کوثر
آسودگی آموز ہو جب آبلہ پائی
ہو جاتی ہے منزل کی لگن دل میں تپاں اور
حمید نسیم
دیکھتے دیکھتے تیرا چہرہ اور اک چہرہ بن جاتا ہے
اک مانوس ملول سا چہرہ کب دیکھا تھا بھول گیا ہوں
حمید نسیم
کیا خبر میرا سفر ہے اور کتنی دور کا
کاغذی اک ناؤ ہوں اور تیز رو پانی میں ہوں
حمید نسیم
نہ یاد کی چبھن کوئی نہ کوئی لو ملال کی
میں جانے کتنی دور یونہی خود سے بے خبر گیا
حمید نسیم
تم اپنے خواب بچا کر رکھو کہ کل دنیا
تمہاری آنکھ میں جھانکے تو زندگی دیکھے
حامد اقبال صدیقی

