EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

آج کا خط ہی اسے بھیجا ہے کورا لیکن
آج کا خط ہی ادھورا نہیں لکھا میں نے

حامد مختار حامد




گر نہ جائے ترے معیار سے انداز حروف
یوں کبھی نام بھی تیرا نہیں لکھا میں نے

حامد مختار حامد




مقام ضبط غم عشق میں وہ پیدا کر
کہ تو خوشی کو نہ ترسے تجھے خوشی ترسے

حامد مختار حامد




مجھ سے یہ پیاس کا صحرا نہیں دیکھا جاتا
روز اب خواب میں دریا نہیں دیکھا جاتا

حامد مختار حامد




تو ہنسی لے کے مری آنکھ کو آنسو دے دے
مجھ سے سوکھا ہوا دریا نہیں دیکھا جاتا

حامد مختار حامد




عمر ہی تیری گزر جائے گی ان کے حل میں
تیرا بچہ جو سوالات لیے بیٹھا ہے

حامد مختار حامد




یہ بزرگوں کی روا داری کے پژمردہ گلاب
آبیاری چاہتے ہیں ان میں چنگاری نہ رکھ

حامد مختار حامد