EN हिंदी
یاد شیاری | شیح شیری

یاد

237 شیر

یہ حقیقت ہے کہ احباب کو ہم
یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں

ناصر کاظمی




ذرا سی بات سہی تیرا یاد آ جانا
ذرا سی بات بہت دیر تک رلاتی تھی

ناصر کاظمی




تم سے چھٹ کر بھی تمہیں بھولنا آسان نہ تھا
تم کو ہی یاد کیا تم کو بھلانے کے لئے

ندا فاضلی




شام پڑتے ہی کسی شخص کی یاد
کوچۂ جاں میں صدا کرتی ہے

پروین شاکر




ہم اسے یاد بہت آئیں گے
جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا

قتیل شفائی




میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا
جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے

قتیل شفائی




تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

قتیل شفائی