یہ حقیقت ہے کہ احباب کو ہم
یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں
ناصر کاظمی
ٹیگز:
| یاد |
| 2 لائنیں شیری |
ذرا سی بات سہی تیرا یاد آ جانا
ذرا سی بات بہت دیر تک رلاتی تھی
ناصر کاظمی
تم سے چھٹ کر بھی تمہیں بھولنا آسان نہ تھا
تم کو ہی یاد کیا تم کو بھلانے کے لئے
ندا فاضلی
شام پڑتے ہی کسی شخص کی یاد
کوچۂ جاں میں صدا کرتی ہے
پروین شاکر
ہم اسے یاد بہت آئیں گے
جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا
قتیل شفائی
میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا
جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے
قتیل شفائی
ٹیگز:
| یاد |
| 2 لائنیں شیری |
تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں
قتیل شفائی