یوں تو منہ دیکھنے کی ہوتی ہے محبت سب کو
جب میں جانوں کہ مرے بعد مرا دھیان رہے
لالہ مادھو رام جوہر
ذرا رہنے دو اپنے در پہ ہم خانہ بدوشوں کو
مسافر جس جگہ آرام پاتے ہیں ٹھہرتے ہیں
لالہ مادھو رام جوہر
ذرہ سمجھ کے یوں نہ ملا مجھ کو خاک میں
اے آسمان میں بھی کبھی آفتاب تھا
لالہ مادھو رام جوہر
زلفیں منہ پر ہیں منہ ہے زلفوں میں
رات بھر صبح شام دن بھر ہے
لالہ مادھو رام جوہر
سنتا ہوں میں کہ آج وہ تشریف لائیں گے
اللہ سچ کرے کہیں جھوٹی خبر نہ ہو
لالہ مادھو رام جوہر
سب کو محفل میں نصیب ان کے نظارے ہوں گے
ہم کہیں غش میں پڑے ایک کنارے ہوں گے
لالہ مادھو رام جوہر
صدمے اٹھائیں رشک کے کب تک جو ہو سو ہو
یا تو رقیب ہی نہیں یا آج ہم نہیں
لالہ مادھو رام جوہر
سمجھا لیا فریب سے مجھ کو تو آپ نے
دل سے تو پوچھ لیجیے کیوں بے قرار ہے
لالہ مادھو رام جوہر
سر پھوڑ کے مر جائیں گے بد نام کریں گے
جس کام سے ڈرتے ہو وہی کام کریں گے
لالہ مادھو رام جوہر

