سودائے زلف یار میں ہے تلخ زندگی
یہ زہر ہم نے مول لیا سانپ پال کے
لالہ مادھو رام جوہر
صیاد و باغباں میں بہت ہوتی ہے صلاح
ایسا نہ ہو کہیں گل و بلبل میں جنگ ہو
لالہ مادھو رام جوہر
شرارت دل میں اس بت کے بھری ہے
اسی پتھر میں ہیں لاکھوں شرر بند
لالہ مادھو رام جوہر
سینے سے لپٹو یا گلا کاٹو
ہم تمہارے ہیں دل تمہارا ہے
لالہ مادھو رام جوہر
سخن سخت سے دل پہلے ہی تم توڑ چکے
اب اگر بات بناؤ بھی تو کیا ہوتا ہے
لالہ مادھو رام جوہر
سنسان کر دیا مرے پہلو کو لے کے دل
ظالم نے لوٹ کر مری بستی تباہ کی
لالہ مادھو رام جوہر
سب کے لیے جہان میں ابر کرم ہیں وہ
چاروں طرف برستے ہیں اک بوند ادھر نہیں
لالہ مادھو رام جوہر
سوئے کعبہ چلوں کہ جانب دیر
اس دوراہے پہ دل بھٹکتا ہے
لالہ مادھو رام جوہر
صورت تو دکھاتے ہیں گلے سے نہیں ملتے
آنکھوں کی تو سن لیتے ہیں دل کی نہیں سنتے
لالہ مادھو رام جوہر

