تڑپ رہا ہے دل اک ناوک جفا کے لیے
اسی نگاہ سے پھر دیکھیے خدا کے لیے
لالہ مادھو رام جوہر
تصور زلف کا ہے اور میں ہوں
بلا کا سامنا ہے اور میں ہوں
لالہ مادھو رام جوہر
تشریف لاؤ کوچۂ رنداں میں واعظو
سیدھی سی راہ تم کو بتا دیں نجات کی
لالہ مادھو رام جوہر
تیرا قصوروار خدا کا گناہ گار
جو کچھ کہ تھا یہی دل خانہ خراب تھا
لالہ مادھو رام جوہر
ٹھہری جو وصل کی تو ہوئی صبح شام سے
بت مہرباں ہوئے تو خدا مہرباں نہ تھا
لالہ مادھو رام جوہر
تھمے آنسو تو پھر تم شوق سے گھر کو چلے جانا
کہاں جاتے ہو اس طوفان میں پانی ذرا ٹھہرے
لالہ مادھو رام جوہر
طفلی کی محبت کو جوانی میں نہ بھولو
انصاف کرو کیا سے ہوئے کیا مرے آگے
لالہ مادھو رام جوہر
کیا بتاؤں کس طرح دل آ گیا
کیا کہوں کیسے محبت ہو گئی
لالہ مادھو رام جوہر
اس قمر کو کبھی تو دیکھیں گے
تیس دن ہوتے ہیں مہینے کے
لالہ مادھو رام جوہر

