وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ روتے ہو کس لیے
دریا کو دے یہ قطرۂ ناچیز کیا جواب
لالہ مادھو رام جوہر
وہ عیادت کو نہ آیا کریں میں در گزرا
حال دل پوچھ کے اور آگ لگا جاتے ہیں
لالہ مادھو رام جوہر
وہی شاگرد پھر ہو جاتے ہیں استاد اے جوہرؔ
جو اپنے جان و دل سے خدمت استاد کرتے ہیں
لالہ مادھو رام جوہر
واقف نہیں کہ پاؤں میں پڑتی ہیں بیڑیاں
دولہے کو یہ خوشی ہے کہ میری برات ہے
لالہ مادھو رام جوہر
وعدہ نہیں پیام نہیں گفتگو نہیں
حیرت ہے اے خدا مجھے کیوں انتظار ہے
لالہ مادھو رام جوہر
اس نے پھر کر بھی نہ دیکھا میں اسے دیکھا کیا
دے دیا دل راہ چلتے کو یہ میں نے کیا کیا
لالہ مادھو رام جوہر
ان کے آنے کی خبر سن کے تو یہ حال ہوا
جب وہ آئیں گے تو پھر کیا مری حالت ہوگی
لالہ مادھو رام جوہر
تو نے اغیار سے آئینہ منگا کر دیکھا
دل میں آتا ہے کہ اب منہ نہ دکھائیں تجھ کو
لالہ مادھو رام جوہر
تم شاہ حسن ہو کے نہ پوچھو فقیر سے
ایسے بھرے مکان سے خالی گدا پھرے
لالہ مادھو رام جوہر

