دل کے معاملے میں مجھے دخل کچھ نہیں
اس کے مزاج میں جدھر آئے ادھر رہے
لالہ مادھو رام جوہر
دل میں آؤ مزے ہوں جینے کے
کھول دوں میں کواڑ سینے کے
لالہ مادھو رام جوہر
دل میں خاک اڑتی ہے کہنے کو بڑے ہیں زاہد
مکر کا ورد ہے پڑھتے ہیں ریا کی تسبیح
لالہ مادھو رام جوہر
دل میں رہتے جو مرے اور ہی کچھ ہو جاتے
یہ وہ کعبہ ہے کہ بت جس میں خدا ہوتے ہیں
لالہ مادھو رام جوہر
دل میں تیرے چہرۂ پر نور کو کرتا ہوں یاد
عشق گیسو میں ہوا کرتا ہے سودا رات کو
لالہ مادھو رام جوہر
دل مرا خواب گاہ دلبر ہے
بس یہی ایک سونے کا گھر ہے
لالہ مادھو رام جوہر
دل پیار کی نظر کے لیے بے قرار ہے
اک تیر اس طرف بھی یہ تازہ شکار ہے
لالہ مادھو رام جوہر
دل سے گزری کبھی سر سے گزری
بس یوں ہی عمر ہماری گزری
لالہ مادھو رام جوہر
دل تو وہ مانگتے ہیں اور تماشا یہ ہے
بات مطلب کی جو کہیے تو اڑا جاتے ہیں
لالہ مادھو رام جوہر

