اسی شہر میں کئی سال سے مرے کچھ قریبی عزیز ہیں
انہیں میری کوئی خبر نہیں مجھے ان کا کوئی پتہ نہیں
بشیر بدر
اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری
لوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے
بشیر بدر
جی بہت چاہتا ہے سچ بولیں
کیا کریں حوصلہ نہیں ہوتا
I want to speak only what's true
but courage fails, what can I do
بشیر بدر
جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے
آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا
بشیر بدر
جس پر ہماری آنکھ نے موتی بچھائے رات بھر
بھیجا وہی کاغذ اسے ہم نے لکھا کچھ بھی نہیں
بشیر بدر
کئی سال سے کچھ خبر ہی نہیں
کہاں دن گزارا کہاں رات کی
بشیر بدر
کئی ستاروں کو میں جانتا ہوں بچپن سے
کہیں بھی جاؤں مرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
بشیر بدر
کاغذ میں دب کے مر گئے کیڑے کتاب کے
دیوانہ بے پڑھے لکھے مشہور ہو گیا
بشیر بدر
کبھی کبھی تو چھلک پڑتی ہیں یوں ہی آنکھیں
اداس ہونے کا کوئی سبب نہیں ہوتا
بشیر بدر

