حقیقتوں میں زمانہ بہت گزار چکے
کوئی کہانی سناؤ بڑا اندھیرا ہے
بشیر بدر
ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں
عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں
بشیر بدر
حسیں تو اور ہیں لیکن کوئی کہاں تجھ سا
جو دل جلائے بہت پھر بھی دل ربا ہی لگے
بشیر بدر
حیات آج بھی کنیز ہے حضور جبر میں
جو زندگی کو جیت لے وہ زندگی کا مرد ہے
بشیر بدر
ہزاروں شعر میرے سو گئے کاغذ کی قبروں میں
عجب ماں ہوں کوئی بچہ مرا زندہ نہیں رہتا
بشیر بدر
اجازت ہو تو میں اک جھوٹ بولوں
مجھے دنیا سے نفرت ہو گئی ہے
بشیر بدر
اک شام کے سائے تلے بیٹھے رہے وہ دیر تک
آنکھوں سے کی باتیں بہت منہ سے کہا کچھ بھی نہیں
بشیر بدر
اس شہر کے بادل تری زلفوں کی طرح ہیں
یہ آگ لگاتے ہیں بجھانے نہیں آتے
بشیر بدر
اسی لئے تو یہاں اب بھی اجنبی ہوں میں
تمام لوگ فرشتے ہیں آدمی ہوں میں
بشیر بدر

