EN हिंदी
محابب شیاری | شیح شیری

محابب

406 شیر

رونے لگتا ہوں محبت میں تو کہتا ہے کوئی
کیا ترے اشکوں سے یہ جنگل ہرا ہو جائے گا

احمد مشتاق




روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جگ بیت گئے
عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے

احمد مشتاق




تو نے ہی تو چاہا تھا کہ ملتا رہوں تجھ سے
تیری یہی مرضی ہے تو اچھا نہیں ملتا

احمد مشتاق




بھری دنیا میں فقط مجھ سے نگاہیں نہ چرا
عشق پر بس نہ چلے گا تری دانائی کا

احمد ندیم قاسمی




کچھ کھیل نہیں ہے عشق کرنا
یہ زندگی بھر کا رت جگا ہے

احمد ندیم قاسمی




کہیں یہ اپنی محبت کی انتہا تو نہیں
بہت دنوں سے تری یاد بھی نہیں آئی

احمد راہی




تنگ آ گیا ہوں وسعت مفہوم عشق سے
نکلا جو حرف منہ سے وہ افسانہ ہو گیا

احسن مارہروی