EN हिंदी
محابب شیاری | شیح شیری

محابب

406 شیر

بے نیاز دہر کر دیتا ہے عشق
بے زروں کو لعل و زر دیتا ہے عشق

ابو الحسنات حقی




اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا
میں نہیں تو کوئی تجھ کو دوسرا مل جائے گا

عدیم ہاشمی




مجھے گم شدہ دل کا غم ہے تو یہ ہے
کہ اس میں بھری تھی محبت کسی کی

افسر الہ آبادی




تمہارے ہجر میں کیوں زندگی نہ مشکل ہو
تمہیں جگر ہو تمہیں جان ہو تمہیں دل ہو

افسر الہ آبادی




چند لوگوں کی محبت بھی غنیمت ہے میاں
شہر کا شہر ہمارا تو نہیں ہو سکتا

افضل گوہر راؤ




اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ

my heart is optimistic yet, its hopes are still alive
come to snuff it out, let not this final flame survive

احمد فراز




دو گھڑی اس سے رہو دور تو یوں لگتا ہے
جس طرح سایۂ دیوار سے دیوار جدا

احمد فراز