ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسم
نظر نظر میں کھلا گیا ہے شرارتوں کے گلاب موسم
احتشام الحق صدیقی
تو مرد مومن ہے اپنی منزل کو آسمانوں پہ دیکھ ناداں
کہ راہ ظلمت میں ساتھ دے گا کوئی چراغ علیل کب تک
احتشام الحق صدیقی
یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنا
لبوں پر پیاس رکھنا اور پانی پشت پر رکھنا
احتشام الحق صدیقی
رہ حیات میں لاکھوں تھے ہم سفر اعجازؔ
کسی کو یاد رکھا اور کسی کو بھول گئے
اعجاز احمد اعجاز
یہاں تو روز نئی آفتوں سے پالا ہے
حسینؔ کتنے اب آئیں گے کربلا کے لئے
اعجاز احمد اعجاز
بہتی ہوئی آنکھوں کی روانی میں مرے ہیں
کچھ خواب مرے عین جوانی میں مرے ہیں
اعجاز توکل
قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو
ہم لوگ محبت کی کہانی میں مریں ہیں
اعجاز توکل

