EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسم
نظر نظر میں کھلا گیا ہے شرارتوں کے گلاب موسم

احتشام الحق صدیقی




تو مرد مومن ہے اپنی منزل کو آسمانوں پہ دیکھ ناداں
کہ راہ ظلمت میں ساتھ دے گا کوئی چراغ علیل کب تک

احتشام الحق صدیقی




یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنا
لبوں پر پیاس رکھنا اور پانی پشت پر رکھنا

احتشام الحق صدیقی




رہ حیات میں لاکھوں تھے ہم سفر اعجازؔ
کسی کو یاد رکھا اور کسی کو بھول گئے

اعجاز احمد اعجاز




یہاں تو روز نئی آفتوں سے پالا ہے
حسینؔ کتنے اب آئیں گے کربلا کے لئے

اعجاز احمد اعجاز




بہتی ہوئی آنکھوں کی روانی میں مرے ہیں
کچھ خواب مرے عین جوانی میں مرے ہیں

اعجاز توکل




قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو
ہم لوگ محبت کی کہانی میں مریں ہیں

اعجاز توکل