منزل نہ ملی تو غم نہیں ہے
اپنے کو تو کھو کے پا گیا ہوں
احتشام حسین
نہ جانے ہار ہے یا جیت کیا ہے
غموں پر مسکرانا آ گیا ہے
احتشام حسین
تیرا ہی ہو کے جو رہ جاؤں تو پھر کیا ہوگا
اے جنوں اور ہیں دنیا میں بہت کام مجھے
احتشام حسین
وادئ شب میں اجالوں کا گزر ہو کیسے
دل جلائے رہو پیغام سحر آنے تک
احتشام حسین
یوں گزرتا ہے تری یاد کی وادی میں خیال
خارزاروں میں کوئی برہنہ پا ہو جیسے
احتشام حسین
میں اک مزدور ہوں روٹی کی خاطر بوجھ اٹھاتا ہوں
مری قسمت ہے بار حکمرانی پشت پر رکھنا
احتشام الحق صدیقی
شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دینا
کہ مجھ کو آتا نہیں غموں کو خوشی کے سانچوں میں ڈھال دینا
احتشام الحق صدیقی

