EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

منزل نہ ملی تو غم نہیں ہے
اپنے کو تو کھو کے پا گیا ہوں

احتشام حسین




نہ جانے ہار ہے یا جیت کیا ہے
غموں پر مسکرانا آ گیا ہے

احتشام حسین




تیرا ہی ہو کے جو رہ جاؤں تو پھر کیا ہوگا
اے جنوں اور ہیں دنیا میں بہت کام مجھے

احتشام حسین




وادئ شب میں اجالوں کا گزر ہو کیسے
دل جلائے رہو پیغام سحر آنے تک

احتشام حسین




یوں گزرتا ہے تری یاد کی وادی میں خیال
خارزاروں میں کوئی برہنہ پا ہو جیسے

احتشام حسین




میں اک مزدور ہوں روٹی کی خاطر بوجھ اٹھاتا ہوں
مری قسمت ہے بار حکمرانی پشت پر رکھنا

احتشام الحق صدیقی




شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دینا
کہ مجھ کو آتا نہیں غموں کو خوشی کے سانچوں میں ڈھال دینا

احتشام الحق صدیقی