EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس بار بھی شعلوں نے مچا ڈالی تباہی
اس بار بھی شعلوں کو ہوا دی گئی شاید

احترام اسلام




لڑکھڑا کر گر پڑی اونچی عمارت دفعتاً
دفعتاً تعمیر کی کرسی پہ کھنڈر جم گیا

احترام اسلام




ساتھ رکھئے کام آئے گا بہت نام خدا
خوف گر جاگا تو پھر کس کو صدا دی جائے گی

احترام اسلام




شعر کے روپ میں دیتے رہنا
احترامؔ اپنی خبر آگے بھی

احترام اسلام




توقیر اندھیروں کی بڑھا دی گئی شاید
اک شمع جو روشن تھی بجھا دی گئی شاید

احترام اسلام




اسی سے مجھ کو ملا اشتیاق منزل کا
مرے سفر کو فضائے سفر اسی سے ملی

احترام اسلام




یاد تھا سقراطؔ کا قصہ سبھی کو احترامؔ
سوچئے ایسے میں بڑھ کر سچ کو سچ کہتا تو کون

احترام اسلام