در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر
یہ شور سا کیسا ہے مری خاک سے باہر
اعجاز گل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دھوپ جوانی کا یارانہ اپنی جگہ
تھک جاتا ہے جسم تو سایہ مانگتا ہے
اعجاز گل
ٹیگز:
| سایا |
| 2 لائنیں شیری |
دنوں مہینوں آنکھیں روئیں نئی رتوں کی خواہش میں
رت بدلی تو سوکھے پتے دہلیزوں میں در آئے
اعجاز گل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
حیرت ہے سب تلاش پہ اس کی رہے مصر
پایا گیا سراغ نہ جس بے سراغ کا
اعجاز گل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہر ملاقات کا انجام جدائی تھا اگر
پھر یہ ہنگامہ ملاقات سے پہلے کیا تھا
اعجاز گل
ٹیگز:
| ملت |
| 2 لائنیں شیری |
ہوا کے کھیل میں شرکت کے واسطے مجھ کو
خزاں نے شاخ سے پھینکا ہے رہ گزار کے بیچ
اعجاز گل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہو نہیں پایا ہے سمجھوتہ کبھی دونوں کے بیچ
جھوٹ اندر سے ہے سچ باہر سے اکتایا ہوا
اعجاز گل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

