ہوتا ہے پھر وہ اور کسی یاد کے سپرد
رکھتا ہوں جو سنبھال کے لمحہ فراغ کا
اعجاز گل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جو قصہ گو نے سنایا وہی سنا گیا ہے
اگر تھا اس سے سوا تو نہیں کہا گیا ہے
اعجاز گل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کبھی قطار سے باہر کبھی قطار کے بیچ
میں ہجر زاد ہوا خرچ انتظار کے بیچ
اعجاز گل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کوئی سبب تو ہے ایسا کہ ایک عمر سے ہیں
زمانہ مجھ سے خفا اور میں زمانے سے
اعجاز گل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کچھ دیر ٹھہر اور ذرا دیکھ تماشا
ناپید ہیں یہ رونقیں اس خاک سے باہر
اعجاز گل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میں عمر کو تو مجھے عمر کھینچتی ہے الٹ
تضاد سمت کا ہے اسپ اور سوار کے بیچ
اعجاز گل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
مشق سخن میں دل بھی ہمیشہ سے ہے شریک
لیکن ہے اس میں کام زیادہ دماغ کا
اعجاز گل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

