EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مرے عزیز ہی مجھ کو سمجھ نہ پائے کبھی
میں اپنا حال کسی اجنبی سے کیا کہتا

احتشام اختر




شہر کے اندھیرے کو اک چراغ کافی ہے
سو چراغ جلتے ہیں اک چراغ جلنے سے

احتشام اختر




سوچ ان کی کیسی ہے کیسے ہیں یہ دیوانے
اک مکاں کی خاطر جو سو مکاں جلاتے ہیں

احتشام اختر




تم جلانا مجھے چاہو تو جلا دو لیکن
نخل تازہ جو جلے گا تو دھواں بھی دے گا

احتشام اختر




بجھیں شمعیں تو دل جلائے ہیں
یوں اندھیروں میں روشنی کی ہے

احتشام حسین




دل نے چپکے سے کہا کوشش ناکام کے بعد
زہر ہی درد محبت کی دوا ہو جیسے

احتشام حسین




میں سمجھتا ہوں مجھے دولت کونین ملی
کون کہتا ہے کہ وہ کر گئے بدنام مجھے

احتشام حسین