دو طرف تھا ہجوم صدیوں کا
ایک لمحہ سا درمیاں میں تھا
اعجاز اعظمی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میں وہاں ہوں جہاں نہیں کوئی
کچھ نہیں تھا جہاں وہاں میں تھا
اعجاز اعظمی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
عجیب شخص تھا میں بھی بھلا نہیں پایا
کیا نہ اس نے بھی انکار یاد آنے سے
اعجاز گل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اطوار اس کے دیکھ کے آتا نہیں یقیں
انساں سنا گیا ہے کہ آفاق میں رہا
اعجاز گل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بے سبب جمع تو کرتا نہیں تیر و ترکش
کچھ ہدف ہوگا زمانے کی ستم گاری کا
اعجاز گل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بجھی نہیں مرے آتش کدے کی آگ ابھی
اٹھا نہیں ہے بدن سے دھواں کہاں گیا میں
اعجاز گل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
چاہا تھا مفر دل نے مگر زلف گرہ گیر
پیچاک بناتی رہی پیچاک سے باہر
اعجاز گل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

