EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دو طرف تھا ہجوم صدیوں کا
ایک لمحہ سا درمیاں میں تھا

اعجاز اعظمی




میں وہاں ہوں جہاں نہیں کوئی
کچھ نہیں تھا جہاں وہاں میں تھا

اعجاز اعظمی




عجیب شخص تھا میں بھی بھلا نہیں پایا
کیا نہ اس نے بھی انکار یاد آنے سے

اعجاز گل




اطوار اس کے دیکھ کے آتا نہیں یقیں
انساں سنا گیا ہے کہ آفاق میں رہا

اعجاز گل




بے سبب جمع تو کرتا نہیں تیر و ترکش
کچھ ہدف ہوگا زمانے کی ستم گاری کا

اعجاز گل




بجھی نہیں مرے آتش کدے کی آگ ابھی
اٹھا نہیں ہے بدن سے دھواں کہاں گیا میں

اعجاز گل




چاہا تھا مفر دل نے مگر زلف گرہ گیر
پیچاک بناتی رہی پیچاک سے باہر

اعجاز گل