بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم
قسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے
خمارؔ بارہ بنکوی
چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں
نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے
خمارؔ بارہ بنکوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دشمنوں سے پشیمان ہونا پڑا ہے
دوستوں کا خلوص آزمانے کے بعد
خمارؔ بارہ بنکوی
دشمنوں سے پیار ہوتا جائے گا
دوستوں کو آزماتے جائیے
خمارؔ بارہ بنکوی
دوسروں پر اگر تبصرہ کیجئے
سامنے آئنہ رکھ لیا کیجئے
خمارؔ بارہ بنکوی
ٹیگز:
| آئینے |
| 2 لائنیں شیری |
غم ہے نہ اب خوشی ہے نہ امید ہے نہ یاس
سب سے نجات پائے زمانے گزر گئے
خمارؔ بارہ بنکوی
گزرے ہیں میکدے سے جو توبہ کے بعد ہم
کچھ دور عادتاً بھی قدم ڈگمگائے ہیں
خمارؔ بارہ بنکوی

