خدا بچائے تری مست مست آنکھوں سے
فرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہے
خمارؔ بارہ بنکوی
مرے راہ بر مجھ کو گمراہ کر دے
سنا ہے کہ منزل قریب آ گئی ہے
خمارؔ بارہ بنکوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
مجھے کو محرومئ نظارہ قبول
آپ جلوے نہ اپنے عام کریں
خمارؔ بارہ بنکوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
مجھے تو ان کی عبادت پہ رحم آتا ہے
جبیں کے ساتھ جو سجدے میں دل جھکا نہ سکے
خمارؔ بارہ بنکوی
ٹیگز:
| دل |
| 2 لائنیں شیری |
او جانے والے آ کہ ترے انتظار میں
رستے کو گھر بنائے زمانے گزر گئے
خمارؔ بارہ بنکوی
ٹیگز:
| انتر |
| 2 لائنیں شیری |
پھول کر لے نباہ کانٹوں سے
آدمی ہی نہ آدمی سے ملے
خمارؔ بارہ بنکوی
رات باقی تھی جب وہ بچھڑے تھے
کٹ گئی عمر رات باقی ہے
خمارؔ بارہ بنکوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

