EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

خدا بچائے تری مست مست آنکھوں سے
فرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہے

خمارؔ بارہ بنکوی




مرے راہ بر مجھ کو گمراہ کر دے
سنا ہے کہ منزل قریب آ گئی ہے

خمارؔ بارہ بنکوی




مجھے کو محرومئ نظارہ قبول
آپ جلوے نہ اپنے عام کریں

خمارؔ بارہ بنکوی




مجھے تو ان کی عبادت پہ رحم آتا ہے
جبیں کے ساتھ جو سجدے میں دل جھکا نہ سکے

خمارؔ بارہ بنکوی




او جانے والے آ کہ ترے انتظار میں
رستے کو گھر بنائے زمانے گزر گئے

خمارؔ بارہ بنکوی




پھول کر لے نباہ کانٹوں سے
آدمی ہی نہ آدمی سے ملے

خمارؔ بارہ بنکوی




رات باقی تھی جب وہ بچھڑے تھے
کٹ گئی عمر رات باقی ہے

خمارؔ بارہ بنکوی