EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ میرے جذب نہاں کا ہے معجزہ شاید
کہ دل میں جھانک کے دیکھوں تو تو ہی تو نکلے

خاور لدھیانوی




کبھی میں ڈھلتا ہوں کاغذ پہ نقش کی صورت
میں لفظ بن کے کسی کی زباں میں تیرتا ہوں

خاور نقوی




میں کیوں کہوں کہ زمانہ نہیں ہے راس مجھے
میں دیکھتا ہوں زمانے کو راس میں بھی نہیں

خاور رضوی




ہر طرف خونیں بھنور ہر سمت چیخوں کے عذاب
موج گل بھی اب کے دوزخ کی ہوا سے کم نہ تھی

خیال امروہوی




اب ان حدود میں لایا ہے انتظار مجھے
وہ آ بھی جائیں تو آئے اعتبار مجھے

خمارؔ بارہ بنکوی




ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی

خمارؔ بارہ بنکوی




عقل و دل اپنی اپنی کہیں جب خمارؔ
عقل کی سنیے دل کا کہا کیجئے

خمارؔ بارہ بنکوی