یہ میرے جذب نہاں کا ہے معجزہ شاید
کہ دل میں جھانک کے دیکھوں تو تو ہی تو نکلے
خاور لدھیانوی
کبھی میں ڈھلتا ہوں کاغذ پہ نقش کی صورت
میں لفظ بن کے کسی کی زباں میں تیرتا ہوں
خاور نقوی
میں کیوں کہوں کہ زمانہ نہیں ہے راس مجھے
میں دیکھتا ہوں زمانے کو راس میں بھی نہیں
خاور رضوی
ہر طرف خونیں بھنور ہر سمت چیخوں کے عذاب
موج گل بھی اب کے دوزخ کی ہوا سے کم نہ تھی
خیال امروہوی
اب ان حدود میں لایا ہے انتظار مجھے
وہ آ بھی جائیں تو آئے اعتبار مجھے
خمارؔ بارہ بنکوی
ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی
خمارؔ بارہ بنکوی
عقل و دل اپنی اپنی کہیں جب خمارؔ
عقل کی سنیے دل کا کہا کیجئے
خمارؔ بارہ بنکوی

