EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہاتھ اٹھتا نہیں ہے دل سے خمارؔ
ہم انہیں کس طرح سلام کریں

خمارؔ بارہ بنکوی




ہم پہ گزرا ہے وہ بھی وقت خمارؔ
جب شناسا بھی اجنبی سے ملے

خمارؔ بارہ بنکوی




ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں کی
وہ پتھر مرے گھر میں آنے لگے ہیں

خمارؔ بارہ بنکوی




الٰہی مرے دوست ہوں خیریت سے
یہ کیوں گھر میں پتھر نہیں آ رہے ہیں

خمارؔ بارہ بنکوی




جلتے دیوں میں جلتے گھروں جیسی ضو کہاں
سرکار روشنی کا مزا ہم سے پوچھئے

خمارؔ بارہ بنکوی




جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں
کس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیں

خمارؔ بارہ بنکوی




کہیں شعر و نغمہ بن کے کہیں آنسوؤں میں ڈھل کے
وہ مجھے ملے تو لیکن کئی صورتیں بدل کے

خمارؔ بارہ بنکوی