روشنی کے لیے دل جلانا پڑا
کیسی ظلمت بڑھی تیرے جانے کے بعد
خمارؔ بارہ بنکوی
صحرا کو بہت ناز ہے ویرانی پہ اپنی
واقف نہیں شاید مرے اجڑے ہوئے گھر سے
خمارؔ بارہ بنکوی
سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں
تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں
خمارؔ بارہ بنکوی
ٹیگز:
| یاد |
| 2 لائنیں شیری |
تجھ کو برباد تو ہونا تھا بہرحال خمارؔ
ناز کر ناز کہ اس نے تجھے برباد کیا
خمارؔ بارہ بنکوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں
جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں
خمارؔ بارہ بنکوی
ٹیگز:
| یاد |
| 2 لائنیں شیری |
یاد کرنے پہ بھی دوست آئے نہ یاد
دوستوں کے کرم یاد آتے رہے
خمارؔ بارہ بنکوی
یہ کہنا تھا ان سے محبت ہے مجھ کو
یہ کہنے میں مجھ کو زمانے لگے ہیں
خمارؔ بارہ بنکوی

