EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

روشنی کے لیے دل جلانا پڑا
کیسی ظلمت بڑھی تیرے جانے کے بعد

خمارؔ بارہ بنکوی




صحرا کو بہت ناز ہے ویرانی پہ اپنی
واقف نہیں شاید مرے اجڑے ہوئے گھر سے

خمارؔ بارہ بنکوی




سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں
تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں

خمارؔ بارہ بنکوی




تجھ کو برباد تو ہونا تھا بہرحال خمارؔ
ناز کر ناز کہ اس نے تجھے برباد کیا

خمارؔ بارہ بنکوی




وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں
جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں

خمارؔ بارہ بنکوی




یاد کرنے پہ بھی دوست آئے نہ یاد
دوستوں کے کرم یاد آتے رہے

خمارؔ بارہ بنکوی




یہ کہنا تھا ان سے محبت ہے مجھ کو
یہ کہنے میں مجھ کو زمانے لگے ہیں

خمارؔ بارہ بنکوی