EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

شاعری میں انفس و آفاق مبہم ہیں ابھی
استعارہ ہی حقیقت میں خدا سا خواب ہے

کاوش بدری




سکھ کی زمیں بسیط نہیں ہے تو کیا ہوا
دکھ تو مرا وشال ہے آکاش کی طرح

کاوش بدری




میں تیرگی کو امانت تری سمجھتا ہوں
تو روشنی ہے تو کوئی کرن اتار مجھے

کاوش بٹ




بدل لیا ہے ذرا خواب کے علاقے کو
مکاں کو چھوڑ کے اب لا مکاں میں رہتا ہوں

خاور اعجاز




ہاتھ لگاتے ہی مٹی کا ڈھیر ہوئے
کیسے کیسے رنگ بھرے تھے خوابوں میں

خاور اعجاز




اک عرصہ بعد ہوئی کھل کے گفتگو اس سے
اک عرصہ بعد وہ کانٹا چبھا ہوا نکلا

خاور اعجاز




جہاں تم ہو وہاں سے دور پڑتی ہے زمیں میری
جہاں میں ہوں وہاں سے آسماں نزدیک پڑتا ہے

خاور اعجاز