EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مرے اور اس کے بیچ اک دھند سی موجود رہتی ہے
یہ دنیا آ رہی ہے میرے اس کے درمیاں شاید

خاور اعجاز




مرے صحن پر کھلا آسمان رہے کہ میں
اسے دھوپ چھاؤں میں بانٹنا نہیں چاہتا

خاور اعجاز




مجھے اس خواب نے اک عرصہ تک بے تاب رکھا ہے
اک اونچی چھت ہے اور چھت پر کوئی مہتاب رکھا ہے

خاور اعجاز




سنا رہی ہے جسے جوڑ جوڑ کر دنیا
تمام ٹکڑے ہیں وہ میری داستان کے ہی

خاور اعجاز




افق پر ڈوبنے والا ستارا
کئی امکان روشن کر گیا ہے

خاور اعجاز




یہ دل حد سے گزرنا چاہتا تھا
مگر مجبور ہو کر رہ گیا ہے

خاور اعجاز




یہ دل یہ شہر وفا کب اسے پسند آیا
وہ بے قرار تھا اس کو یہاں سے جانا تھا

خاور اعجاز