EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

زوال عہد تو شاید مجھے نہ پہچانے
میں اک حوالہ ہوں اور کربلا سے آیا ہوں

خاور اعجاز




اپنے صحرا سے بندھے پیاس کے مارے ہوئے ہم
منتظر ہیں کہ ادھر کوئی کنواں آ نکلے

خاور جیلانی




بننے والی بات وہی ہوتی ہے وہ جو
بنتے بنتے یکسر بنتی رہ جاتی ہے

خاور جیلانی




دلوں کی شیشہ گری کارگاہ ہستی میں
ہنر کے زیر و زبر سے بھی ٹوٹ سکتی تھی

خاور جیلانی




اک چنگاری آگ لگا جاتی ہے بن میں اور کبھی
ایک کرن سے ظلمت کو چھٹ جانا پڑتا ہے

خاور جیلانی




جینا تو الگ بات ہے مرنا بھی یہاں پر
ہر شخص کی اپنی ہی ضرورت کے لیے ہے

خاور جیلانی




نہیں ہے کوئی بھی حتمی یہاں حد معلوم
ہر ایک انتہا اک اور انتہا تک ہے

خاور جیلانی