EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تجھے کچھ اس کی خبر بھی ہے بھولنے والے
کسی کو یاد تیری بار بار آئی ہے

کوثر نیازی




اس نے اخلاص کے مارے ہوئے دیوانے کو
ایک آوارہ و بد نام سا شاعر جانا

کوثر نیازی




وہ مل نہ سکے یاد تو ہے ان کی سلامت
اس یاد سے بھی ہم نے بہت کام لیا ہے

کوثر نیازی




یہ درد کہ ہے تیری محبت کی امانت
مر جائیں گے اس درد کا درماں نہ کریں گے

کوثر نیازی




ضرور تیری گلی سے گزر ہوا ہوگا
کہ آج باد صبا بے قرار آئی ہے

کوثر نیازی




ہمیں جو فکر کی دعوت نہ دے سکے کوثرؔ
وہ شعر شعر تو ہے روح شاعری تو نہیں

کوثر سیوانی




حریفوں کی طرف داری سے اپنا پن کا دم ٹوٹا
بڑھی کچھ اور جب دوری تو قربت کا بھرم ٹوٹا

کوثر سیوانی