EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جو توڑ دو گے مجھے تم بھی ٹوٹ جاؤ گے
کہ ارتباط سلاسل کی اک کڑی ہوں میں

کوثر سیوانی




کیا دل کی پیاس تھی کہ بجھائی نہ جا سکی
بادل نچوڑ کے نہ سمندر تراش کے

کوثر سیوانی




میں تو قابل نہ تھا ان کے دیدار کے
ان کی چوکھٹ پہ میری خطا لے گئی

کوثر سیوانی




سمندر کی طرح وسعت ہو جس میں
وہ قطرہ بحر ہے قطرہ نہیں ہے

کوثر سیوانی




زندگی کچھ تو بھرم رکھ لے وفاداری کا
تجھ کو مر مر کے شب و روز سنوارا ہے بہت

کوثر سیوانی




اب نہ وہ احباب زندہ ہیں نہ رسم الخط وہاں
روٹھ کر اردو تو دہلی سے دکن میں آ گئی

کاوش بدری




از سر نو فکر کا آغاز کرنا چاہیئے
بے پر و بال سہی پرواز کرنا چاہیئے

کاوش بدری