EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سبھی کردار تھک کر سو گئے ہیں
مگر اب تک کہانی چل رہی ہے

خاور جیلانی




سچائی وہ جنگ ہے جس میں بعض اوقات سپاہی کو
آپ مقابل اپنے ہی ڈٹ جانا پڑتا ہے

خاور جیلانی




صبح ہوتی ہے تو کنج خوش گمانی میں کہیں
پھینک دی جاتی ہے شب بھر کی سیاہی باندھ کر

خاور جیلانی




وقت گزر جاتا ہے لیکن دل کی رنجش
دل میں بیٹھی کی بیٹھی ہی رہ جاتی ہے

خاور جیلانی




وہ کہ بن پا نہیں رہا مجھ سے
جو کہ شاید بنا رہا ہوں میں

خاور جیلانی




وہ کچھ سے کچھ بنا ڈالے گا تسلیمات کے معنی
سلیقہ آ گیا اس کو اگر انکار کرنے کا

خاور جیلانی




یوں ہی بے کار میں پڑا خود کو
کار آمد بنا رہا ہوں میں

خاور جیلانی