EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ایک بوسہ ہونٹ پر پھیلا تبسم بن گیا
جو حرارت تھی مری اس کے بدن میں آ گئی

کاوش بدری




ایک منظر بھی نہ دیکھا گیا مجھ سے کاوشؔ
سارے عالم کو کوئی دیکھ رہا ہے مجھ میں

کاوش بدری




جواب دینے کی مہلت نہ مل سکی ہم کو
وہ پل میں لاکھ سوالات کر کے جاتا ہے

کاوش بدری




لفظ کی بہتات اتنی نقد و فن میں آ گئی
مسخ ہو کر صورت معنی سخن میں آ گئی

کاوش بدری




ماحول سب کا ایک ہے آنکھیں وہی نظریں وہی
سب سے الگ راہیں مری سب سے جدا منظر مرا

کاوش بدری




میری آواز کو آواز نے تقسیم کیا
ریڈیو میں ہوں ٹیلیفون کے اندر ہوں میں

کاوش بدری




سانس لینے بھی نہ پایا تھا کہ منظر گم ہوا
میں کسی قابل نہ تھا ورنہ ٹھہرتا اور کچھ

کاوش بدری