EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تیرا میرا کوئی رشتہ تو نہیں ہے لیکن
میں نے جو خواب میں دیکھا ہے کوئی دیکھ نہ لے

جاوید صبا




اس نے آنچل سے نکالی مری گم گشتہ بیاض
اور چپکے سے محبت کا ورق موڑ دیا

جاوید صبا




وحشت کا یہ عالم کہ پس چاک گریباں
رنجش ہے بہاروں سے الجھتے ہیں خزاں سے

جاوید صبا




یہ جو محفل میں مرے نام سے موجود ہوں میں
میں نہیں ہوں مرا دھوکا ہے کوئی دیکھ نہ لے

جاوید صبا




اجنبی بود و باش کے قرب و جوار میں ملا
بچھڑا تو وہ مجھے کسی اور دیار میں ملا

جاوید شاہین




ڈوبنے والا تھا دن شام تھی ہونے والی
یوں لگا مری کوئی چیز تھی کھونے والی

جاوید شاہین




حساب دوستاں کرنے ہی سے معلوم یہ ہوگا
خسارے میں ہوں یا اب میں خسارے سے نکل آیا

جاوید شاہین