EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جمع کرتی ہے مجھے رات بہت مشکل سے
صبح کو گھر سے نکلتے ہی بکھرنے کے لیے

جاوید شاہین




جدا تھی بام سے دیوار در اکیلا تھا
مکیں تھے خود میں مگن اور گھر اکیلا تھا

جاوید شاہین




کہیں صدائے جرس ہے نہ گرد راہ سفر
ٹھہر گیا ہے کہاں قافلہ تمنا کا

جاوید شاہین




خطا کس کی ہے تم ہی وقت سے باہر رہے شاہیںؔ
تمہیں آواز دینے ایک لمحہ دور تک آیا

جاوید شاہین




خود بنا لیتا ہوں میں اپنی اداسی کا سبب
ڈھونڈ ہی لیتی ہے شاہیںؔ مجھ کو ویرانی مری

جاوید شاہین




کس طرح بے موج اور خالی روانی سے ہوا
بے خبر دریا کہاں پر اپنے پانی سے ہوا

جاوید شاہین




کچھ زمانے کی روش نے سخت مجھ کو کر دیا
اور کچھ بے درد میں اس کو بھلانے سے ہوا

جاوید شاہین