EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

آہٹ بھی اگر کی تو تہہ ذات نہیں کی
لفظوں نے کئی دن سے کوئی بات نہیں کی

جاوید ناصر




بہت اداس تھا اس دن مگر ہوا کیا تھا
ہر ایک بات بھلی تھی تو پھر برا کیا تھا

جاوید ناصر




دشت کی دھوپ ہے جنگل کی گھنی راتیں ہیں
اس کہانی میں بہر حال کئی باتیں ہیں

جاوید ناصر




دوستو تم سے گزارش ہے یہاں مت آؤ
اس بڑے شہر میں تنہائی بھی مر جاتی ہے

جاوید ناصر




گھڑی جو بیت گئی اس کا بھی شمار کیا
نصاب جاں میں تری خامشی بھی شامل کی

جاوید ناصر




جنبش مہر ہے ہر لفظ تری باتوں کا
رنگ اڑتا نہیں آنکھوں سے ملاقاتوں کا

جاوید ناصر




خدا آباد رکھے زندگی کو
ہماری خامشی کو سہہ گئی ہے

جاوید ناصر