EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

غم سے احساس کا آئینہ جلا پاتا ہے
اور غم سیکھے ہے آ کر یہ سلیقہ مجھ سے

جاوید وششٹ




کانٹوں پہ چلے ہیں تو کہیں پھول کھلے ہیں
پھولوں سے ملے ہیں تو بڑی چوٹ لگی ہے

جاوید وششٹ




کوئی خیال کوئی یاد کوئی تو احساس
ملا دے آج ذرا آ کے ہم کو خود ہم سے

جاوید وششٹ




مدت سے رہی فرش تری راہ گزر میں
تب جا کے ستاروں سے کہیں آنکھ لڑی ہے

جاوید وششٹ




یہ تو وقت وقت کی بات ہے ہمیں ان سے کوئی گلہ نہیں
وہ ہوں آج ہم سے خفا خفا کبھو ہم سے ان کو بھی پیار تھا

جاوید وششٹ




اب مرا دھیان کہیں اور چلا جاتا ہے
اب کوئی فلم مکمل نہیں دیکھی جاتی

جواد شیخ




اگر وہ کرنے پہ آتا تو کچھ بھی کر جاتا
یہ سوچ مت کہ اکیلا شرار کیا کرتا

جواد شیخ