EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ڈر رہا ہوں کہ سر شام تری آنکھوں میں
میں نے جو وقت گزارا ہے کوئی دیکھ نہ لے

جاوید صبا




دیکھے تھے جتنے خواب ٹھکانے لگا دیے
تم نے تو آتے آتے زمانے لگا دیے

جاوید صبا




گزر رہی تھی زندگی گزر رہی ہے زندگی
نشیب کے بغیر بھی فراز کے بغیر بھی

جاوید صبا




جانے والے نے ہمیشہ کی جدائی دے کر
دل کو آنکھوں میں دھڑکنے کے لیے چھوڑ دیا

جاوید صبا




مدھم مدھم سانس کی خوش بو میٹھے میٹھے درد کی آنچ
رہ رہ کے کرتی ہے بیکل اور میں لکھتا جاتا ہوں

جاوید صبا




مجھے تنہائی کی عادت ہے میری بات چھوڑیں
یہ لیجے آپ کا گھر آ گیا ہے ہات چھوڑیں

جاوید صبا




شاعری کار جنوں ہے آپ کے بس کی نہیں
وقت پر بستر سے اٹھئے وقت پر سو جائیے

جاوید صبا