EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کھلتی ہیں آسماں میں سمندر کی کھڑکیاں
بے دین راستوں پہ کہیں اپنا گھر تو ہے

جاوید ناصر




کن کن کی آتمائیں پہاڑوں میں قید ہیں
آواز دو تو بجتے ہیں پتھر کے دف یہاں

جاوید ناصر




کیا کہانی کو اسی موڑ پہ رکنا ہوگا
روشنی ہے نہ سمندر ہے نہ برساتیں ہیں

جاوید ناصر




رات آ جائے تو پھر تجھ کو پکاروں یارب
میری آواز اجالے میں بکھر جاتی ہے

جاوید ناصر




اٹھ اٹھ کے آسماں کو بتاتی ہے دھول کیوں
مٹی میں دفن ہو گئے کتنے صدف یہاں

جاوید ناصر




آپ سے اب کیا چھپانا آپ کوئی غیر ہیں
ہو چکا ہوں میں کسی کا آپ بھی ہو جائیے

جاوید صبا




اے بے خودی سلام تجھے تیرا شکریہ
دنیا بھی مست مست ہے عقبیٰ بھی مست مست

جاوید صبا