کھلتی ہیں آسماں میں سمندر کی کھڑکیاں
بے دین راستوں پہ کہیں اپنا گھر تو ہے
جاوید ناصر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کن کن کی آتمائیں پہاڑوں میں قید ہیں
آواز دو تو بجتے ہیں پتھر کے دف یہاں
جاوید ناصر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کیا کہانی کو اسی موڑ پہ رکنا ہوگا
روشنی ہے نہ سمندر ہے نہ برساتیں ہیں
جاوید ناصر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
رات آ جائے تو پھر تجھ کو پکاروں یارب
میری آواز اجالے میں بکھر جاتی ہے
جاوید ناصر
ٹیگز:
| راٹ |
| 2 لائنیں شیری |
اٹھ اٹھ کے آسماں کو بتاتی ہے دھول کیوں
مٹی میں دفن ہو گئے کتنے صدف یہاں
جاوید ناصر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
آپ سے اب کیا چھپانا آپ کوئی غیر ہیں
ہو چکا ہوں میں کسی کا آپ بھی ہو جائیے
جاوید صبا
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اے بے خودی سلام تجھے تیرا شکریہ
دنیا بھی مست مست ہے عقبیٰ بھی مست مست
جاوید صبا
ٹیگز:
| باہوڈی |
| 2 لائنیں شیری |

