EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میں نے دیکھا ہے چمن سے رخصت گل کا سماں
سب سے پہلے رنگ مدھم ایک کونے سے ہوا

جاوید شاہین




مزہ تو جب ہے اداسی کی شام ہو شاہیںؔ
اور اس کے بیچ سے شام طرب نکل آئے

جاوید شاہین




سمجھ رہا ہے زمانہ ریا کے پیچھے ہوں
میں ایک اور طرح سے خدا کے پیچھے ہوں

جاوید شاہین




تھوڑا سا کہیں جمع بھی رکھ درد کا پانی
موسم ہے کوئی خشک سا برسات سے آگے

جاوید شاہین




آنکھ اٹھاؤ تو حجابات کا اک عالم ہے
دل سے دیکھو تو کوئی راہ میں حائل بھی نہیں

جاوید وششٹ




آج اپنے بھی پرائے سے نظر آتے ہیں
پیار کی رسم زمانے سے اٹھی جاتی ہے

جاوید وششٹ




درد کی آنچ بنا دیتی ہے دل کو اکسیر
درد سے دل ہے اگر درد نہیں دل بھی نہیں

جاوید وششٹ