EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دلی کہاں گئیں ترے کوچوں کی رونقیں
گلیوں سے سر جھکا کے گزرنے لگا ہوں میں

جاں نثاراختر




فرصت کار فقط چار گھڑی ہے یارو
یہ نہ سوچو کی ابھی عمر پڑی ہے یارو

جاں نثاراختر




گزر گیا ہے کوئی لمحۂ شرر کی طرح
ابھی تو میں اسے پہچان بھی نہ پایا تھا

جاں نثاراختر




ہم سے پوچھو کہ غزل کیا ہے غزل کا فن کیا
چند لفظوں میں کوئی آگ چھپا دی جائے

جاں نثاراختر




ہر چند اعتبار میں دھوکے بھی ہیں مگر
یہ تو نہیں کسی پہ بھروسا کیا نہ جائے

جاں نثاراختر




عشق میں کیا نقصان نفع ہے ہم کو کیا سمجھاتے ہو
ہم نے ساری عمر ہی یارو دل کا کاروبار کیا

جاں نثاراختر




اتنے مایوس تو حالات نہیں
لوگ کس واسطے گھبرائے ہیں

جاں نثاراختر