ایک ہی شے تھی بہ انداز دگر مانگی تھی
میں نے بینائی نہیں تجھ سے نظر مانگی تھی
اظہار اثر
تاریکیوں کے پار چمکتی ہے کوئی شے
شاید مرے جنون سفر کی امنگ ہے
اظہار اثر
تمام مظہر فطرت ترے غزل خواں ہیں
یہ چاندنی بھی ترے جسم کا قصیدہ ہے
اظہار اثر
تو بھی تو ہٹا جسم کے سورج سے اندھیرے
یہ مہکی ہوئی رات بھی مہتاب بکف ہے
اظہار اثر
ان سے ملنے کا منظر بھی دل چسپ تھا اے اثرؔ
اس طرف سے بہاریں چلیں اور ادھر سے خزائیں چلیں
اظہار اثر
آنکھیں جو اٹھائے تو محبت کا گماں ہو
نظروں کو جھکائے تو شکایت سی لگے ہے
جاں نثاراختر
آنکھوں میں جو بھر لوگے تو کانٹوں سے چبھیں گے
یہ خواب تو پلکوں پہ سجانے کے لیے ہیں
جاں نثاراختر

