EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تو نہ ہو یہ تو ہو نہیں سکتا
میرا کیا تھا ہوا ہوا نہ ہوا

اسماعیلؔ میرٹھی




الٹی ہر ایک رسم جہان شعور ہے
سیدھی سی اک غزل مجھے لکھنی ضرور ہے

اسماعیلؔ میرٹھی




اسی کا وصف ہے مقصود شعر خوانی سے
اسی کا ذکر ہے منشا غزل سرائی کا

اسماعیلؔ میرٹھی




اٹھا حجاب تو بس دین و دل دیئے ہی بنی
جناب شیخ کو دعویٰ تھا پارسائی کا

اسماعیلؔ میرٹھی




واں سجدۂ نیاز کی مٹی خراب ہے
جب تک کہ آب دیدہ سے تازہ وضو نہ ہو

اسماعیلؔ میرٹھی




یا وفا ہی نہ تھی زمانہ میں
یا مگر دوستوں نے کی ہی نہیں

اسماعیلؔ میرٹھی




یاران بزم دہر میں کیا کیا تپاک تھا
لیکن جب اٹھ گئے تو نہ بار دگر ملے

اسماعیلؔ میرٹھی