EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اڑ گئی پر سے طاقت پرواز
کہیں صیاد اب رہا نہ کرے

جعفر علی حسرت




مری تمنا ہے اب کے تم پھر ملو تو جی بھر کے مسکرائیں
کہ دیکھنا ہے یہ روشنی کا سفر بہت دیر بعد جا کر

جعفر شیرازی




آپس کی گفتگو میں بھی کٹنے لگی زباں
اب دوستوں سے ترک ملاقات چاہئے

جعفر طاہر




اے وطن جب بھی سر دشت کوئی پھول کھلا
دیکھ کر تیرے شہیدوں کی نشانی رویا

جعفر طاہر




عرصۂ ظلمت حیات کٹے
ہم نفس مسکرا کہ رات کٹے

جعفر طاہر




اک عمر بھٹکتے ہوئے گزری ہے جنوں میں
اب کون فریب نگہ یار میں آئے

جعفر طاہر




جب بھی دیکھی ہے کسی چہرے پہ اک تازہ بہار
دیکھ کر میں تری تصویر پرانی رویا

جعفر طاہر