شرم آتی ہے کہ اس شہر میں ہم ہیں کہ جہاں
نہ ملے بھیک تو لاکھوں کا گزارا ہی نہ ہو
جاں نثاراختر
تجھے بانہوں میں بھر لینے کی خواہش یوں ابھرتی ہے
کہ میں اپنی نظر میں آپ رسوا ہو سا جاتا ہوں
جاں نثاراختر
یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
جاں نثاراختر
زلفیں سینہ ناف کمر
ایک ندی میں کتنے بھنور
جاں نثاراختر
بھولتا ہی نہیں وہ دل سے اسے
ہم نے سو سو طرح بھلا دیکھا
جعفر علی حسرت
کس کا ہے جگر جس پہ یہ بیداد کرو گے
لو دل تمہیں ہم دیتے ہیں کیا یاد کرو گے
جعفر علی حسرت
تمہیں غیروں سے کب فرصت ہم اپنے غم سے کم خالی
چلو بس ہو چکا ملنا نہ تم خالی نہ ہم خالی
جعفر علی حسرت

