EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

شرم آتی ہے کہ اس شہر میں ہم ہیں کہ جہاں
نہ ملے بھیک تو لاکھوں کا گزارا ہی نہ ہو

جاں نثاراختر




تجھے بانہوں میں بھر لینے کی خواہش یوں ابھرتی ہے
کہ میں اپنی نظر میں آپ رسوا ہو سا جاتا ہوں

جاں نثاراختر




یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

جاں نثاراختر




زلفیں سینہ ناف کمر
ایک ندی میں کتنے بھنور

جاں نثاراختر




بھولتا ہی نہیں وہ دل سے اسے
ہم نے سو سو طرح بھلا دیکھا

جعفر علی حسرت




کس کا ہے جگر جس پہ یہ بیداد کرو گے
لو دل تمہیں ہم دیتے ہیں کیا یاد کرو گے

جعفر علی حسرت




تمہیں غیروں سے کب فرصت ہم اپنے غم سے کم خالی
چلو بس ہو چکا ملنا نہ تم خالی نہ ہم خالی

جعفر علی حسرت