جامہ عریانی کا قامت پر مری آیا ہے راست
اب مجھے نام لباس عاریت سے ننگ ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
جانے نہ پائے اس کو جہاں ہو تہاں سے لاؤ
گھر میں نہ ہو تو کوچہ و بازار دیکھنا
شیخ ظہور الدین حاتم
جب ہوئے حاتمؔ ہم اس سے آشنا
دوست بھی دشمن ہمارے ہو گئے
شیخ ظہور الدین حاتم
جب پکارے ہے وہ ابے او ہوت
عاشق اپنا خطاب جانے ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
جب سے تیری نظر پڑی ہے جھلک
تب سے لگتی نہیں پلک سے پلک
شیخ ظہور الدین حاتم
جب تک کہ گریبان میں یک تار رہے گا
تب تک مری گردن کے اوپر بار رہے گا
شیخ ظہور الدین حاتم
جواب نامہ یا دیتا نہیں یا قید کرتا ہے
جو بھیجا ہم نے قاصد پھر نہ پائی کچھ خبر اس کی
شیخ ظہور الدین حاتم
جی اٹھوں پھر کر اگر تو ایک بوسہ دے مجھے
چوسنا لب کا ترے ہے مجھ کو جوں آب حیات
شیخ ظہور الدین حاتم
جس کے منہ کی اتر گئی لوئی
غم نہیں اس کو کچھ کہو کوئی
شیخ ظہور الدین حاتم

