EN हिंदी
شیخ ظہور الدین حاتم شیاری | شیح شیری

شیخ ظہور الدین حاتم شیر

235 شیر

جامہ عریانی کا قامت پر مری آیا ہے راست
اب مجھے نام لباس عاریت سے ننگ ہے

شیخ ظہور الدین حاتم




جانے نہ پائے اس کو جہاں ہو تہاں سے لاؤ
گھر میں نہ ہو تو کوچہ و بازار دیکھنا

شیخ ظہور الدین حاتم




جب ہوئے حاتمؔ ہم اس سے آشنا
دوست بھی دشمن ہمارے ہو گئے

شیخ ظہور الدین حاتم




جب پکارے ہے وہ ابے او ہوت
عاشق اپنا خطاب جانے ہے

شیخ ظہور الدین حاتم




جب سے تیری نظر پڑی ہے جھلک
تب سے لگتی نہیں پلک سے پلک

شیخ ظہور الدین حاتم




جب تک کہ گریبان میں یک تار رہے گا
تب تک مری گردن کے اوپر بار رہے گا

شیخ ظہور الدین حاتم




جواب نامہ یا دیتا نہیں یا قید کرتا ہے
جو بھیجا ہم نے قاصد پھر نہ پائی کچھ خبر اس کی

شیخ ظہور الدین حاتم




جی اٹھوں پھر کر اگر تو ایک بوسہ دے مجھے
چوسنا لب کا ترے ہے مجھ کو جوں آب حیات

شیخ ظہور الدین حاتم




جس کے منہ کی اتر گئی لوئی
غم نہیں اس کو کچھ کہو کوئی

شیخ ظہور الدین حاتم