ہے راہ عاشقی تاریک اور باریک اور سکڑی
نہیں کچھ کام آنے کی یہاں زاہد تری لکڑی
شیخ ظہور الدین حاتم
حیراں ہیں اپنے اپنے جو دیکھا سو کام میں
کیا ناخدا شناس یہاں کیا خدا شناس
شیخ ظہور الدین حاتم
ہم بہت دیکھے فرنگستان کے حسن صبیح
چرب ہے سب پر بتان ہند کا رنگ ملیح
شیخ ظہور الدین حاتم
ہم چھنالوں کی چھوڑ دی یاری
نفس کو مار کر کیا مردا
شیخ ظہور الدین حاتم
ہم سیں مستوں کو بس ہے تیری نگاہ
صبح اٹھ کر خمار کی خاطر
شیخ ظہور الدین حاتم
ہم تری راہ میں جوں نقش قدم بیٹھے ہیں
تو تغافل کیے اے یار چلا جاتا ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
ہماری عقل بے تدبیر پر تدبیر ہنستی ہے
اگر تدبیر ہم کرتے ہیں تو تقدیر ہنستی ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
ہماری گفتگو سب سے جدا ہے
ہمارے سب سخن ہیں بانکپن کے
شیخ ظہور الدین حاتم
حق رکھے اس کو سلامت ہند میں
جس سے خوش لگتا ہے ہندوستاں مجھے
شیخ ظہور الدین حاتم

