صبر بن اور کچھ نہ لو ہم راہ
کوچۂ عشق تنگ ہے یارو
شیخ ظہور الدین حاتم
شمع ہر شام تیرے رونے پر
صبح دم تک چراغ ہنستا ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
سنو ہندو مسلمانو کہ فیض عشق سے حاتمؔ
ہوا آزاد قید مذہب و مشرب سے اب فارغ
شیخ ظہور الدین حاتم
سواد خال کے نقطے کی خوبی
جو عاشق ہے سو تل تل جانتا ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
تابع رضا کا اوس کی ازل سیں کیا مجھے
چلتا نہیں ہے زور کسوں کا قضا کے ہاتھ
شیخ ظہور الدین حاتم
طبع تیری عجب تماشا ہے
گاہ تولا ہے گاہ ماشہ ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
طبیبوں کی توجہ سے مرض ہونے لگا دونا
دوا اس درد کی بتلا دل آگاہ کیا کیجے
شیخ ظہور الدین حاتم
تنہائی سے آتی نہیں دن رات مجھے نیند
یارب مرا ہم خواب و ہم آغوش کہاں ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
تیرے آگے لے چکا خسرو لب شیریں سے کام
تو عبث سر پھوڑتا ہے کوہ کن پتھر سے آج
شیخ ظہور الدین حاتم

